ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ نے جائیداد کی تقسیم کے لئے تلنگانہ کا جائزہ پٹیشن مسترد کیا

سپریم کورٹ نے جائیداد کی تقسیم کے لئے تلنگانہ کا جائزہ پٹیشن مسترد کیا

Thu, 25 Aug 2016 19:26:20    S.O. News Service

 

نئی دہلی ، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے تلنگانہ کی جانب سے دائر جائزہ لینے کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں اس نے اثاثوں کی تقسیم میں کے بارے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔عدالت عظمی نے کہا تھا کہ نو تشکیل شدہ ریاستی اداروں پر مکمل طورپرحق ہونے کا دعوی محض اس لیے نہیں کر سکتا کہ وہ اس کے دارالحکومت حیدرآباد میں واقع ہیں۔حیدرآباد فی الحال دونوں ریاستوں کی دارالحکومت ہے۔جسٹس وی گوپال گوڑا اور جسٹس ارون مشرا کی بنچ نے جائزہ پٹیشن کی کھلی سماعت کی مانگ کو مسترد کر دیا اور یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ جائزے کا کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔سپریم کورٹ نے 18مارچ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کو درکنار کر دیا تھا جس میں آندھرا پردیش ریاستی اعلی تعلیم کونسل(اے پی ایس سی ایچ ای) کے بینک اکاؤنٹ کو ضبط کر دیا گیا تھا۔ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر ا ے پی ایس سی ایچ ای کے اکاؤنٹ کو ضبط کرنے کے احکامات دئے تھے کہ اب یہ تلنگانہ ریاستی اعلی تعلیم کونسل(ٹی ایس سی) کے ہیں کیونکہ یہ حیدرآباد میں واقع ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تلنگانہ نے اے پی ایس سی ایچ ای کی پوری رقم اور جائیداد پر مالکانہ حق ظاہر کیا ہے۔عدالت نے کہا کہ تنظیم نو ایکٹ 2014کو لاگو کرتے وقت یقینی طور پر یہ منشا نہیں رہی ہوگی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ دلیل کی اہم بات یہ ہے کہ تلنگانہ کا حیدرآباد شہر میں واقع اداروں پر مکمل حق محض اس لئے نہیں بنتا کہ حیدرآباد تلنگانہ میں آ گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ تلنگانہ کی طرف سے پیش جرح سے ہم مکمل طور متفق نہیں ہیں،اگر اس منطق کو قبول کیا جاتا ہے تو قانون کی دفعہ 47کے تحت جائیداد اور احتساب کی تقسیم دونوں ریاستوں میں ہونا ہے۔


Share: